اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر بھر میں تازہ ہلاکتوں کے خلاف غم و غصے اور تشویش کی لہر کے بیچ ریل اور موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اتوار کے روز ہوئی ہنگامی احتجاجی ہڑتال کے بعد سرینگر اور سوپور سمیت شمالی اور وسطی کشمیر میں آج کئی مقامات پر مشتعل نوجوانوں اور قابض فورسز میں تصادم آرائیاں ہوئیں۔ جنوبی مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان مختلف مقامات پر معرکوں میں قریباً ایک درجن سے زائد افراد جن میں عسکریت پسند، عام شہریوں کے علاوہ فوجی اہلکار شامل ہیں کے پس منظر میں تمام کشمیر میں ایک بار پھر اُبال دیکھنے کو ملا۔ ضلع شوپیان کے کچھ ڈورہ اور دراگڑ علاقہ میں دو الگ الگ جھڑپوں کے علاوہ ضلع اسلام آباد کے دیالگام علاقہ میں فوج کے ساتھ عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک معرکے میں ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ جھڑپوں والے مقامات کے علاوہ دیگر علاقوں میں احتجاج کے دوران بیسیوں افراد بری طرح زخمی ہوگئے۔
احتجاجی بھیڑ کو منشتر کرنے کے لئے مختلف مقامات پر قابض فورسز نے ہوائی فائرنگ، آنسو گیس اور پیلٹ گن کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد بری طرح زخمی ہوگئے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں ہوئی ان ہلاکتوں کو لے کر سرینگر، بڈگام، گاندربل، کپواڑہ، بارہمولہ، سوپور، بانڈی پورہ میں مکمل ہڑتال کی گئی اور لوگوں نے فورسز کے خلاف بھرپور غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس دوران لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زوردار نعرہ بازی کرتے ہوئے پولیس و سی آر پی ایف اہلکاروں پر چہار سو سنگ باری کی۔ سرینگر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کر کے ٹریفک کی نقل و حرکت کو مسدود کردیا۔ اسی طرح شمالی کشمیر کے بارہمولہ، سوپور، کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں نوجوانوں اور خواتین نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت اور فورسز کے خلاف زوردار نعرہ بازی کی اور یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/169